13
ہم اللہ کو کس طرح پسند آئیں
ایک دوسرے سے بھائیوں کی سی محبت رکھتے رہیں۔ مہمان نوازی مت بھولنا، کیونکہ ایسا کرنے سے بعض نے نادانستہ طور پر فرشتوں کی مہمان نوازی کی ہے۔ جو قید میں ہیں، اُنہیں یوں یاد رکھنا جیسے آپ خود اُن کے ساتھ قید میں ہوں۔ اور جن کے ساتھ بدسلوکی ہو رہی ہے اُنہیں یوں یاد رکھنا جیسے آپ سے یہ بدسلوکی ہو رہی ہو۔
لازم ہے کہ سب کے سب ازدواجی زندگی کا احترام کریں۔ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے وفادار رہیں، کیونکہ اللہ زناکاروں اور شادی کا بندھن توڑنے والوں کی عدالت کرے گا۔
آپ کی زندگی پیسوں کے لالچ سے آزاد ہو۔ اُسی پر اکتفا کریں جو آپ کے پاس ہے، کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے، ”مَیں تجھے کبھی نہیں چھوڑوں گا، مَیں تجھے کبھی ترک نہیں کروں گا۔“ اِس لئے ہم اعتماد سے کہہ سکتے ہیں،
”رب میری مدد کرنے والا ہے،
اِس لئے مَیں نہیں ڈروں گا۔
انسان میرا کیا بگاڑ سکتا ہے؟“
اپنے راہنماؤں کو یاد رکھیں جنہوں نے آپ کو اللہ کا کلام سنایا۔ اِس پر غور کریں کہ اُن کے چال چلن سے کتنی بھلائی پیدا ہوئی ہے، اور اُن کے ایمان کے نمونے پر چلیں۔ عیسیٰ مسیح ماضی میں، آج اور ابد تک یکساں ہے۔ طرح طرح کی اور بیگانہ تعلیمات آپ کو اِدھر اُدھر نہ بھٹکائیں۔ آپ تو اللہ کے فضل سے تقویت پاتے ہیں اور اِس سے نہیں کہ آپ مختلف کھانوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ اِس میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہے۔
10 ہمارے پاس ایک ایسی قربان گاہ ہے جس کی قربانی کھانا ملاقات کے خیمے میں خدمت کرنے والوں کے لئے منع ہے۔ 11 کیونکہ گو امامِ اعظم جانوروں کا خون گناہ کی قربانی کے طور پر مُقدّس ترین کمرے میں لے جاتا ہے، لیکن اُن کی لاشوں کو خیمہ گاہ کے باہر جلایا جاتا ہے۔ 12 اِس وجہ سے عیسیٰ کو بھی شہر کے باہر صلیبی موت سہنی پڑی تاکہ قوم کو اپنے خون سے مخصوص و مُقدّس کرے۔ 13 اِس لئے آئیں، ہم خیمہ گاہ سے نکل کر اُس کے پاس جائیں اور اُس کی بےعزتی میں شریک ہو جائیں۔ 14 کیونکہ یہاں ہمارا کوئی قائم رہنے والا شہر نہیں ہے بلکہ ہم آنے والے شہر کی شدید آرزو رکھتے ہیں۔ 15 چنانچہ آئیں، ہم عیسیٰ کے وسیلے سے اللہ کو حمد و ثنا کی قربانی پیش کریں، یعنی ہمارے ہونٹوں سے اُس کے نام کی تعریف کرنے والا پھل نکلے۔ 16 نیز، بھلائی کرنا اور دوسروں کو اپنی برکات میں شریک کرنا مت بھولنا، کیونکہ ایسی قربانیاں اللہ کو پسند ہیں۔
17 اپنے راہنماؤں کی سنیں اور اُن کی بات مانیں۔ کیونکہ وہ آپ کی دیکھ بھال کرتے کرتے جاگتے رہتے ہیں، اور اِس میں وہ اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اُن کی بات مانیں تاکہ وہ خوشی سے اپنی خدمت سرانجام دیں۔ ورنہ وہ کراہتے کراہتے اپنی ذمہ داری نبھائیں گے، اور یہ آپ کے لئے مفید نہیں ہو گا۔
18 ہمارے لئے دعا کریں، گو ہمیں یقین ہے کہ ہمارا ضمیر صاف ہے اور ہم ہر لحاظ سے اچھی زندگی گزارنے کے خواہش مند ہیں۔
19 مَیں خاص کر اِس پر زور دینا چاہتا ہوں کہ آپ دعا کریں کہ اللہ مجھے آپ کے پاس جلد واپس آنے کی توفیق بخشے۔
آخری دعا
20 اب سلامتی کا خدا جو ابدی عہد کے خون سے ہمارے خداوند اور بھیڑوں کے عظیم چرواہے عیسیٰ کو مُردوں میں سے واپس لایا 21 وہ آپ کو ہر اچھی چیز سے نوازے تاکہ آپ اُس کی مرضی پوری کر سکیں۔ اور وہ عیسیٰ مسیح کے ذریعے ہم میں وہ کچھ پیدا کرے جو اُسے پسند آئے۔ اُس کا جلال ازل سے ابد تک ہوتا رہے! آمین۔
آخری الفاظ
22 بھائیو، مہربانی کر کے نصیحت کی اِن باتوں پر سنجیدگی سے غور کریں، کیونکہ مَیں نے آپ کو صرف چند الفاظ لکھے ہیں۔ 23 یہ بات آپ کے علم میں ہونی چاہئے کہ ہمارے بھائی تیمُتھیُس کو رِہا کر دیا گیا ہے۔ اگر وہ جلدی پہنچے تو اُسے ساتھ لے کر آپ سے ملنے آؤں گا۔
24 اپنے تمام راہنماؤں اور تمام مُقدّسین کو میرا سلام کہنا۔ اٹلی کے ایمان دار آپ کو سلام کہتے ہیں۔
25 اللہ کا فضل آپ سب کے ساتھ رہے۔