20
پناہ کے چھ شہر
رب نے یشوع سے کہا، ”اسرائیلیوں کو حکم دے کہ اُن ہدایات کے مطابق پناہ کے شہر چن لو جنہیں مَیں تمہیں موسیٰ کی معرفت دے چکا ہوں۔ اِن شہروں میں وہ لوگ فرار ہو سکتے ہیں جن سے کوئی اتفاقاً یعنی غیرارادی طور پر ہلاک ہوا ہو۔ یہ اُنہیں مرے ہوئے شخص کے اُن رشتے داروں سے پناہ دیں گے جو بدلہ لینا چاہیں گے۔ لازم ہے کہ ایسا شخص پناہ کے شہر کے پاس پہنچنے پر شہر کے دروازے کے پاس بیٹھے بزرگوں کو اپنا معاملہ پیش کرے۔ اُس کی بات سن کر بزرگ اُسے اپنے شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیں اور اُسے اپنے درمیان رہنے کے لئے جگہ دے دیں۔ اب اگر بدلہ لینے والا اُس کے پیچھے پڑ کر وہاں پہنچے تو بزرگ ملزم کو اُس کے ہاتھ میں نہ دیں، کیونکہ یہ موت غیرارادی طور پر اور نفرت رکھے بغیر ہوئی ہے۔ وہ اُس وقت تک شہر میں رہے جب تک مقامی عدالت معاملے کا فیصلہ نہ کر دے۔ اگر عدالت اُسے بےگناہ قرار دے تو وہ اُس وقت کے امامِ اعظم کی موت تک اُس شہر میں رہے۔ اِس کے بعد اُسے اپنے اُس شہر اور گھر کو واپس جانے کی اجازت ہے جس سے وہ فرار ہو کر آیا ہے۔“
اسرائیلیوں نے پناہ کے یہ شہر چن لئے: نفتالی کے پہاڑی علاقے میں گلیل کا قادس، افرائیم کے پہاڑی علاقے میں سِکم اور یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں قِریَت اربع یعنی حبرون۔ دریائے یردن کے مشرق میں اُنہوں نے بصر کو چن لیا جو یریحو سے کافی دُور میدانِ مرتفع میں ہے اور روبن کے قبیلے کی ملکیت ہے۔ ملکِ جِلعاد میں رامات جو جد کے قبیلے کا ہے اور بسن میں جولان جو منسّی کے قبیلے کا ہے چنا گیا۔
یہ شہر تمام اسرائیلیوں اور اسرائیل میں رہنے والے اجنبیوں کے لئے مقرر کئے گئے۔ جس سے بھی غیرارادی طور پر کوئی ہلاک ہوا اُسے اِن میں پناہ لینے کی اجازت تھی۔ اِن میں وہ اُس وقت تک بدلہ لینے والوں سے محفوظ رہتا تھا جب تک مقامی عدالت فیصلہ نہیں کر دیتی تھی۔