20
ربّہ شہر پر فتح
بہار کا موسم آ گیا، وہ وقت جب بادشاہ جنگ کے لئے نکلتے ہیں۔ تب یوآب نے فوج لے کر عمونیوں کا ملک تباہ کر دیا۔ لڑتے لڑتے وہ ربّہ تک پہنچ گیا اور اُس کا محاصرہ کرنے لگا۔ لیکن داؤد خود یروشلم میں رہا۔ پھر یوآب نے ربّہ کو بھی شکست دے کر خاک میں ملا دیا۔ داؤد نے حنون بادشاہ کا تاج اُس کے سر سے اُتار کر اپنے سر پر رکھ لیا۔ سونے کے اِس تاج کا وزن 34 کلو گرام تھا، اور اُس میں ایک بیش قیمت جوہر جڑا ہوا تھا۔ داؤد نے شہر سے بہت سا لُوٹا ہوا مال لے کر اُس کے باشندوں کو غلام بنا لیا۔ اُنہیں پتھر کاٹنے کی آریاں، لوہے کی کدالیں اور کلہاڑیاں دی گئیں تاکہ وہ مزدوری کریں۔ یہی سلوک باقی عمونی شہروں کے باشندوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ جنگ کے اختتام پر داؤد پوری فوج کے ساتھ یروشلم لوٹ آیا۔
فلستیوں سے جنگ
اِس کے بعد اسرائیلیوں کو جزر کے قریب فلستیوں سے لڑنا پڑا۔ وہاں سِبکی حوساتی نے دیو قامت مرد رفا کی اولاد میں سے ایک آدمی کو مار ڈالا جس کا نام سفی تھا۔ یوں فلستیوں کو تابع کر لیا گیا۔ اُن سے ایک اَور لڑائی کے دوران اِلحنان بن یائیر نے جاتی جالوت کے بھائی لحمی کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ اُس کا نیزہ کھڈی کے شہتیر جیسا بڑا تھا۔ ایک اَور دفعہ جات کے پاس لڑائی ہوئی۔ فلستیوں کا ایک فوجی جو رفا کی نسل کا تھا بہت لمبا تھا۔ اُس کے ہاتھوں اور پیروں کی چھ چھ اُنگلیاں یعنی مل کر 24 اُنگلیاں تھیں۔ جب وہ اسرائیلیوں کا مذاق اُڑانے لگا تو داؤد کے بھائی سِمعا کے بیٹے یونتن نے اُسے مار ڈالا۔ جات کے یہ دیو قامت مرد رفا کی اولاد تھے، اور وہ داؤد اور اُس کے فوجیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے۔